کولکاتہ،28؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)اسمبلی انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں وہی ہورہاہے جس کا خدشہ ظاہرکیاگیاتھا۔ جیت کی ہیٹ ٹرک پورا کرنے کی خواہاں حکمراں ترنمول کانگریس نے پہلے مرحلے میں اسمبلی انتخابات میں ای وی ایم میں دھاندلی اور ووٹنگ فیصد کے بارے میں شکایت الیکشن کمیشن سے کی ہے۔ اس شکایت پر ٹی ایم سی کے ایک وفد نے الیکشن کمیشن سے ملاقات کی ہے۔ 294 رکنی اسمبلی کیلئے پہلے مرحلے میں 30 نشستوں پر آج ووٹنگ ہوئی۔
ذرائع کے مطابق رکن پارلیمنٹ ڈیریک او برائن نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے اور پارٹی کے ایک وفد نے کمیشن کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ سی ایم ممتا بنرجی کی پارٹی ٹی ایم سی نے مشرقی میدنا پور ضلع میں ووٹنگ فیصد کا ایک اسکرین شاٹ ٹویٹ کرتے ہوئے پوچھاکہ کیا ہو رہا ہے؟ 5 منٹ کے اندر اچانک ووٹنگ فیصد آدھاکیسے ہوگیا؟ کیا اس کے بارے میں معلومات دیں گے؟یہ افسوسناک اور حیرت انگیز ہے،براہ کرم فوری طور پر اس معاملے پر غور کریں۔ ٹی ایم سی نے ان دعوؤں کے بارے میں ایک اور پوسٹ میں بات کی ہے کہ لوگ ترنمول کو ووٹ دے پارہے ہیں لیکن ٹی ایم سی کو ووٹ دینے کے بعد بھی ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں جارہا ہے۔ کانتھی جنوبی اسمبلی سیٹ پر بہت سے ووٹروں نے الزام لگایا کہ انہوں نے ٹی ایم سی کو ووٹ دیا، لیکن وی وی پی اے ٹی نے انہیں بی جے پی کا نشان دکھایا،یہ انتہائی سنگین ہے۔ سدیپ بندوپادھیائے کی سربراہی میں ٹی ایم سی کے وفد نے مشرقی مدینی پور کے بھگوان پور اسمبلی حلقہ کے بوتھ نمبر 205 اور 205 اے پرووٹرز کو دھمکیاں دینے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔ٹی ایم سی نے مدینی پور کے بوتھ نمبر 108 پر امیدواروں کیلئے ڈمی اسکرال کی اجازت نہ دینے کا بھی الزام لگایا۔